مہ و سال آشنائی
تیرے نام سے عبارت
تیرا غم رہے رسالت
کہ یہی متاع ہستی

تری دٌلنوازیوں سے
تری کج ادائیوں تک
کبھی غم کدہ منور
کبھی شہر سائیں سائیں
کبھی ہجر جانٌ لیوا
کبھی وصل روح افزاتیری مہربانیوں نے
تری قہرمانیوں کے
وہ بجھا دئیے ہیں شعلے
جو نظر سے اٹھ کے دل کو
غضب آگ دے رہے تھے
وہ تمام خواب ہم نے
جو گئے برس تھے دیکھے
انہیں رب مہرباں نے
بہ کمال مہربانی
کیا’ ہمکنار منزل
مہ و سال آشنائی
ترے نام سے عبارت
تری آرزو سے پہلے
نہ کسی کی آرزو کی
نہ تھا درد آشنا دل
تری آرزو سے پہلے