آج بھی تمہارا انتظار ہے ہاں آج بھی، آج بھی اس ہی طرح سوتے سے اچانک اٹھ جاتا ہوں آج بھی بے چین ہو کر موباءل فون کو دیکھتا ہوں کہیں تم نے کال تو نہیں کی اور میں سوتا رہ گیا ہوں، آج بھی اپنے موباءل کو میں سینے سے لگا کر سوتا ہوں شاءد تمہاری کال آجاءے اور میں جی اٹھوں۔
آج بھی ایک ایک منظر زندہ ہے میری آنکھوں میں آج بھی(میں پیار سے بلاتا تھا) بینو بینو کی آوازیں گونج رہی ہیں آج بھی تمہارا وہ ہنسنا وہ مسکرانا تمہارا وہ “جی جانوں” بولنا تمہارا ٹیڑھی ٹیڑھی آنکھوں سے مجھے دیکھنا آج بھی وہ لفظ جن کو کہتنے کہتنے تم رک جاتی تھیں جیسے ۔۔ آپ بھی ناں۔۔۔ اور وہ ۔۔ ایسا کوءی سین نہیں ہے۔۔
آج بھی وہ تم سے باتیں کرتے ہوءے میں نے کہاتھا یاد ہے؟ بینو میں تمہیں بینو کیوں کہتا ہوں پتہ ہے اس لیءے کہ تمہارے نام سے بیناءی وابسطہ ہے تم میری آنکھوں کی روشنی ہو میری زندگی ہو میرا پیار ہو، میری زندگی میں جو رنگ ہیں وہ تم سے ہیں۔۔
چلو آج تمہیں تمہاری ایک قسم یاد دلاتا ہوں تم نے کہا تھا کہ آج میں اپنی امی کی قسم کھا کر کہتی ہوں جن سے میں سب سے زیادہ پیار کرتی ہوں کہ آپ کو چھوڑ کر کبھی نہیں جاؤنگی اور وہ بات یاد ہے جب تم نے کہا تھا مجھے آپ سے بہت پیار ہے جانوں۔
تمہاری ہنسی سے میں جی اٹھتا تھا تمہارے غم سے میں مرجھا سا جاتا تھا۔
جانتی ہو تمہاری آنکھوں کی وہ چمک اور تمہارے ہونٹوں کی وہ مسکراہٹ جب تم میرے سامنے بیٹھی ہوتی تھیں کہتا تھا نہ سنو بینو یہ میری زندگی کے سب سے حسین پل ہیں، کاش میں ان حسین پلوں کو کہیں قید کر سکتا وہ یاد ہے تمہیں نءے سال کی رات جب بارہ بجتے ہیں ہر طرف روشنیاں ہی روشنیاں پھیل گءی تھیں ہر طرف رنگ ہی رنگ پھیل گءے تھے
نءے سال کو آتے ہوءے میں بس تمہیں دیکھ رہا تھا کیا حسین منظر تھا کیا کچھ میں سوچ رہا تھا ۔۔ اس رات کو ایسا لگ رہا تھا گویا دن کا سماں ہو اور بس میں تمہارے چہرے پر پڑتی ہوءی روشنیاں دیکھ رہا تھا ۔۔ تم کس طرح محو ہو کر آسمان کی جانب دیکھ رہی تھیں اور میں بس اس منظر کو اور تم کو دیکھ رہا تھا۔۔
وہ منظر آج بھی میری آنکھوں میں ویسے ہی قید ہے آج بھی میرا دل گواہی دے گا میں نے ایک ایک یاد کو قید کر کے دل میں سما کے رکھا ہے میرا دل گواہی دے گا میں نے پل پل تم سے محبت کی ہے ۔۔ جانتی ہو تم سے باتیں کرتے ہوءے میں اپنے آپ کو بہت بے بس محسوس کرتا تھا میں تم سے کہتا تھا ناں کہ یار یہ شاعری اپنے بس کا کام نہیں ہے
اگر شاعری میرے بس میں ہوتی ناں تو جانتی ہو بینو میں تمہاری آنکھو پر شاعری کرنے سے بھی فرست نہ پاتا کبھی آنکھیں جھیل جیسی، تو کبھی سمندر سے گہری آنکھیں، کبھی آنکھیں آک جیسی کہ ان کی حدت سے جسم و جاں جل جاءیں تو کبھی آنکھیں آنسو بھری جس میں ہم پگھل جاءیں جس میں دنیا اداس ہو، کبھی آنکھیں امید بھری جو چاہو ہو جاءے جو مانگو مل جاءے کبھی آنکھیں کسی کی منتظر کبھی آنکھوں میں شوخیوں کے رنگ تو کبھی آنکھیں ستارہ تو کبھی آنکھیں غ‍زل تو کبھی آنکھیں کسی شاعر کا قلم، تو کبھی آنکھیں کسی سنگ تراش کا شاہکار، تو کبھی وہ نیند میں سوءی آنکھیں تو کبھی پھول سے کومل آنکھیں میں کس طرح تعریف کروں تمہاری ان آنکھوں کی مجھ سے نہیں ہوتا یہ کام جاناں میں شاعر نہیں آج بھی مجھے وہ یاد ہے میرا تمہاری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے دیکھنا اور پوچھنا پیار کرتی ہو مجھ سے؟ اور تمہارا وہ میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جواب دینا “جی کرتی ہوں بہت زیادہ پیار کرتی ہوں آپ سے ، آپ کے بغیر نہیں رہ سکتی میں” جانتی ہو ہم روز پانچ گھنٹے ساتھ رہتے تھے، اور وقت کیسے بیت جاتا تھا پتہ بھی نہیں چلتا تھا۔
اگر کبھی ہم پانچ منٹ بھی پہلے الگ ہو جاتے تھے تو ہم کتنا اداس ہو جاتے تھے، اور میں تم سے کہتا تھا کہ یار یہ کیا ہے ابھی کیوں جانا ہے دیکھو ابھی تو ٹاءم بھی نہیں ہوا اور میرا وہ تمہیں تنگ کرتے ہوءے کہنا “ایسا کرو گی تو کون آءے گا” اور تمہارا وہ جواب دیتے ہوءے کہنا “میری لاءف میں تو آپ آ گءے ناں اب کوءی نہیں آءے گا” اور میرا یہ سن کر مسکرا دینا۔
21 فروری کے دن ہماری آخری دفعہ بات ہوءی ، ہماری کبھی کوءی لڑاءی نہیں ہوءی کوءی جھگڑا نہیں، ہم وہ تھے جو روز پانچ گھنٹے بات کرتے تھے بینو ہماری باتوں میں ہمارے ساتھ میں کبھی وقفہ نہیں آیا تھا ۔۔ یاد ہے ناں ہمارے درمیاں کبھی دوری نہیں آءی، ہمارے درمیاں تو دوری کا احساس تک نہیں آیا یاد ہے ناں سب کچھ ۔۔۔ 21 فروری کادن اور بس اس کے بعد نہ کوءی ای میل، نہ فون، یہ کوءی رابطہ کچھ نہیں، 22 مارچ کو تم نے فون ریسیو کیا اورمجھے تمہارے روءیے سے ایسا لگا کہ تم اب بہت دور ہو، بہت دور سات سمندر پار تم نے بس آخری دفعہ یہ کہا کہ اب میں تم سے بات نہیں کر سکتی اور پلیز آءندہ کبھی فون مت کرنا۔
بینو میں آج بھی تم سے پیار کرتا ہو، ابھی بھی تم سے پیار کرتا ہوں فقط تمہارا۔۔۔