کہانی محبت کی

تمہیں وہ رات یاد ہے ؟ زندگی کی وہ حسین ترین رات، وہ رات کہ جس کا ارماں شاید برسوں سے تھا، وہ رات ایسی کہ بس نہیں چلتا تھا کہ وقت کہیں تھم جاے، وہ رات کہ جس کے بارے میں سنا بہت تھا پڑھا بہت تھا کتنے برسوں کے انتظار کے بعد وہ رات ہم دونوں کی زندگی میں آی تھی ناں۔۔۔۔
ہاں میں اس ہی رات کی بات کر رہا ہوں جس دن میرا نام تمہاری زندگی کا امیں ٹھہرا تھا اور جب یہ وہ ہی رات تھی جس میں دنیا کے سامنے ہم ایک بندھن میں بندھ گیے تھے۔۔ ایسا بندھن جو نازک بھی

تھا اور اٹوٹ بھی ہاں یہ وہ ہی رات تھی جس دن قدرت نے تمہیں میری شریک سفر کا روپ سونپ دیا تھ۔۔۔۔
میں اس ہی رات کی بات کر رہا ہوں جس رات تمہاری سکھیاں تمہیں کمرے میں چھوڑ گءی تھیں وہ ہی کمرہ جو چاروں طرف نہ جانے کتنے گلابوں کی خوشبو سے مہک رہا تھ۔۔۔ ہر طرف بھینی بھینی گلابوں کی خوشبو مہک رہی تھی۔۔۔ اور ایک تم تھیں میری جاناں جواس وقت تنہاءی کے بہتےسروں کے جھرنے کے پاس خاموشی کی مہکتی فضاء میںنظروں میں چاہت کی ساری شدتیں جلاءے ہوءےاپنے جزبات کو قابو میں کرتے ہوءے ان ہی جزبات کو جو ایک دوسرے کے لیءے دونوں کے دلوں میں تھے نظروں میں چاہت کی محبت کی آرزو کی ساری ساری ساری ۔۔۔ شدتیں جلاءے ہوءے جزبات سے پاگل ٹوٹی ٹوٹی سے اٹکی اٹکی سی جزبات سے پاگل بے ربط سانسوں کو قابو کرتے ہوءے ہجلہ عروسی میں ملبوس سر پر گھونگھٹ ڈھالے ہوءے کہ جس میں تمہارا چہرہ پوری طرح چھپا ہوا تھ۔۔ بیٹھی ہوءی میری آمد کی منتظر تھیں۔۔۔۔
نہ جانے میرے بھی دل میں کتنے جزبے جاگ اٹھے تھے، جذبات کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر جو شاءد تم سے ملنے کا منتظر تھ۔۔۔” مل جاءیں اس طرح دو لہریں جس طرح پھر ہوں نہ جدا یہ وعدہ رہا ‘ کے مصداق نہ جانے دل میں کتنے ہی دیءے میرے بھی روشن ہو رہے تھے۔۔۔۔ میں بھی اپنے دوستوں سے چاہنے والوں سے ملنے کے بعد۔۔۔ اس رات کا حصہ بننے ، کمرے میں وارد ہوا تھا۔۔۔۔

کمرے کا دروازہ بند ہونے کے بعد جیسے چاروں طرف خاموشی سی چھا گءی تھی۔ وہ لوگ جو گانے گا رہے تھے، وہ ساری رسمیں، وہ ساری باتیں، وہ سارے رشتے داروں کا ملنا، وہ شور اچانک ۔۔۔ سب کچھ تھم سا گیا تھ۔۔۔ ہر طرف سناٹا اور کمرے میں ہر سو پھیلی ہوءی مسحور کن گلابوں کی خوشبو اور مسند پر ہجلہ عروسی میں ملبوس شرم و حیاء کیا پیکر تم۔۔۔۔

جانتی ہو اس رات۔۔۔ اس رات میں اپنے تمام تم جزبوں کو سمیٹ کر ، ان تمام ارمانوں کو دل میں لیءے، نہ جانے کتنی محبتوں کو لیءے[ایسا ملن پھر ہو نہ ہو ] کے مصداق تمہارے پاس آ کر بیٹھ گیا تھ۔۔۔
میرا بھی حال تم سے کچھ مختلف نہ تھا۔۔۔۔ہاں وہ ہی حال سانسیں بکھری بکھری سی بے ربط سی اور ۔۔۔ جیسے ہی میں تمہارے پاس آ کر بیٹھا تھا۔۔۔ تب تمہاری بے ربط سی ٹوٹی پھوٹی سی سانسیں یک دم ساکت ہو گءی تھیں۔۔۔
تمہاری سرخ چوڑیوں کی جو کہ تمہاری سرخ عروسی لباس سے کتنا میل کھا رہی تھی۔۔۔ اچانک ان سرخ چوڑیوں سے آتی شوخ و شنک آواز ساکت ہو گءی تھی۔۔۔۔

نہ جانے کتنی محبت سے کتنی چاہت سے میں نے تمہارا آنچل ہٹا کر تمہیں ایک نظر دیکھا تھ۔۔۔۔اور جانتی ہو تم نے۔۔۔ ہاں تم نے۔۔۔ صرف ایک نظر مجھے مسکرا کر دیکھا تھ۔۔۔۔
میں کبھی بھی اس نظر کو ہاں اس شرارت بھری تیکھی نظر کو جو شرم و حیاء کا پیکر تھی۔۔۔ اس نظر کو بیان کر ہی نہیں سکتا ۔۔ تمہاری اس مسکراہٹ کی مثال ہی کیا دوں میں۔۔۔۔
نہ جانے اس وقت میرے ذہن میں کتنی ہی شاعری گشت کر رہی تھی۔۔۔ نہ جانے کتنی ہی باتیں ذہین میں آ رہی تھی۔۔۔ ” سہاگ رات ہے گھونگھنٹ اٹھا رہا ہوں میں سمٹ رہی ہے تو شرما کے اپنی بانہوں میں” کی سی کیفیت وہاں بھی تھی ۔۔۔۔

اور ۔۔۔ اور اس کے بعد کتنی دیر کے بعد میں تم سے گویا ہوا تھ۔۔ اور منہ دکھاءی کے طور پر تمہیں ایک چھوٹی سی رنگ تمہارے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں تھام کر ۔۔ تمہاری نازک سی انگلیوں کی نظر کر دی تھی۔۔۔

ایسا لگ رہا تھ۔۔۔ شاعروں کی ساری شاعری۔۔۔ موسیقاروں کی ساری موسیقی۔۔۔ قدرت کی ساری خوبصورتی۔۔۔۔ سب کچھ میرے پاس آ گءی ہے۔۔۔۔۔ تم جو میرے پاس بیٹھے تھے۔۔۔۔ ایسا لگ رہا تھ۔۔۔۔ سب کچھ ہاں سب کچھ تو میں نے حاصل کر لیا ہے۔۔۔۔

اور پھر میں نے کچھ شعر تمہاری نظر کیءے تھے۔۔۔ اور تم انہیں سن کر مسکرا دی تھیں۔۔۔اس کے بعد میری زندگی کا مقصد میری ہر ایک چاہت ایسا لگا میرے بہت قریب ہے ۔۔۔ میری بانہوں میں ۔۔۔ ‘ دو دل مل رہے ہیں مگر چپکے چپکے’ کی طرح ۔۔۔۔ تم میرے ہو بس میرے ہی میرے ہو۔۔۔ اور نہ جانے کتنی ہی شاعری میرے ذہن میں گردش کر رہی تھی۔۔۔۔

میں کیسے وہ حال لکھ سکتا ہوں جس لمحے میں نے تمہیں اپنی بانہوں میں بھر لیا تھا۔۔۔
وہ پل جب میرے لمس کی گرمی تمہاری رگوں میں جنگل کی آگ کی طرح سے پھیل گءی تھی۔۔۔۔ اور اس جنگل میں تمہارے جس کی بڑھتی گھٹتی سی دھند مجھے کتنا مخمور کرتی ہے۔۔۔ نہ جانے کس انجانے نشے میں مجھے چور کر دیتی ہے۔۔۔

تم۔۔ تم میری بانہوں میں تھیں۔۔۔۔ کتنی ہی مدہوش سی کتنی ہی معطر سی۔۔۔۔ اور میں بھی تمہارے ہی نشے میں مخمور نہ میں تمہیں وہ لمحہ کیسے کیسے کیسے بتا سکتا ہوں جس لمحہ کمرے میں تم میری سینے یہ سر رکھے تھیں۔۔۔۔ میں تمہارے بالوں میں پیار سے انگلیاں پھیر رہا تھا اور نہ جانے دل میں جو جو بھی کچھ تھا وہ کہتا جا رہا تھ۔۔۔۔
تہمیں بتا رہا تھ۔۔۔ جاناں کتنی محبت کرتا ہوں تم سے۔۔۔ کتنی چاہت کی ہے تم سے۔۔۔ میری دعاؤں کا ثمر ہوتم میری محنت کا اثر ہو تم ۔۔۔ میری محبت کے پاکیزہ جزبوں کی ترجمان ہو تم ۔۔۔۔۔۔ تمہاری پہچان ہوں میں اور میری جان ہو تم۔۔۔۔

اور پھر کتنی دیر تک عہد و پیماں جاری رہے ۔۔۔۔ کتنی ہی دیر تک تم نے اپنی شرماءی سی لجاءی سی نازک سی ٹوٹی ٹوٹی سے آواز میں مجھ سے کچھ باتیں کیں۔۔

اور پھر جزباتوں کے سمندر میں نہ جانے کس طرح ایک طوفان سا برپا ہو۔۔۔۔
اس دن ہاں اس دن میں۔۔۔
محبت کی شدتوں سے پاگل سرخ عروسی لباس میں ملبوس اپنی جان، اپنی زندگی ۔۔۔ اپنی شریک سفر۔۔۔ کے پاس آیا تھا۔۔۔۔
اور۔۔ اور۔۔۔۔ اور پھر محبت کی شدت میں سرشار، جذبات سے جلتی ہوءی ایک پاگل سی سرخ جوڑے میں لپٹی ایک معصوم سی، کسی کے پیار بھرے لہجے کی چاہت میں جیتی ایک دیوانی سی مگر میرے لیءے سراپاءے کاءنات سی، میری زندگی میری محبت کےپاس میں آیا تھا۔۔۔

اور پھر۔۔۔ تمہاری حیاء نے سارے گہر مجھ پر وار دیءے تھے۔۔۔اور ایک کہانی بن گءی تھی۔۔۔

ایک تا ابد دہراءی جانے والی کہانی۔۔۔۔

ہاں ہر روز شاءد کتنی ہی جگہوں پر ایسا ہوتا ہو گا۔۔۔۔ جب کوءی دیوانہ محبت کے جذبوں سے سرشار، سرخ جوڑے میں لپٹی ایک دیوانی کے پاس آتا ہو گا اور پیار کی شدت سے پاگل اس دیوانی کی حیاء اپنے سارے گہر وار کر ایک کہانی بناتی ہو گی۔۔۔۔

ایک تا ابد دہراءی جانے والی کہانی۔۔۔ محبت کی کہانی ۔۔۔۔ زندگی کی کہانی۔۔۔ جذبات کی کہانی۔۔۔۔ حیاء کی کہانی۔۔۔۔ پیار کی کہانی۔۔۔۔۔۔۔

ہاں اس ہی پیار کی ۔۔۔ جو شاءد ہمیشہ زندہ رہے گا۔۔۔

مجھے نہیں پتہ کہ میں نے جو کچھ لکھا اس کے ساتھ میں انصاف کر سکا یا نہیں، کافی عرصہ پہلے نوشی گیلانی کی نظم کہانی پڑھی تھی۔۔۔ اس تحریر کا آءیڈیا وہاں سے ہی لیا گیا ہے۔۔ اس امید کے ساتھ کے میرے دوستوں کو محبت کا یہ انداز بھی شاءد پسند آءے۔