کیا آپ جانتے ہیں کہ مشہور امریکی فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ مکڈونلڈز دو بھائیوں نے شروع کیا تھا جن کا فیملی نام مکڈونلڈ تھا۔ ان بھائیوں نے 1953 میں برگرز کو فیکٹری کی پروڈکشن لائن کی طرح بنانے کا سسٹم بنایا جس کی مدد سے یہ 35 سیکنڈز کے اندر اندر کسٹمر کو اس کا آرڈر ڈیلیور کردیا کرتے تھے۔ ان کا ریسٹورنٹ بہت اچھا چل رہا تھا جب ایک دن ان کے پاس جوسر مشینیں بیچنے والا ‘ رے ‘ نامی ایک سیلز مین آیا۔
رے کو ان کا برگر بنانے کا آئیڈیا بہت پسند آیا، اس نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ اسے فرنچائز کریں اور اس مقصد کیلئے وہ خود ان کا فرنچائز ایجنٹ بن گیا۔
اس وقت رے کو رائلٹی کی مد میں فی برگر آدھے سینٹ سے بھی کم کا معاوضہ ملتا تھا جس سے اس کے خرچے بھی پورے نہیں ہوتے تھے۔ پھر ایک دن رے کے دماغ میں آئیڈیا آیا۔ اس نے سوچا کہ مکڈونلڈز کی فرنچائز میں اصل پوٹینشل برگرز کا نہیں بلکہ پراپرٹی کا ہے۔ چنانچہ اس نے اپنی پراپرٹی لیزنگ کمپنی بنائی اور جس کسی کو بھی مکڈونلڈز کی فرنچائز بیچتا، اسے یہ شرط رکھتا کہ وہ زمین اس سے کرائے پر لے گا جس کا کرایہ وہ خود طے کرتا تھا۔ چونکہ مکڈونلڈز بطور ریسٹورنٹ مشہور ہورہا تھا، اس لئے فرنچائز کا مالک اس کی بات مان لیتا۔
رے بنک سے قرض لے کر اپنی کمپنی کے نام پر زمین خریدتا پھر اسے فرنچائز کیلئے کرائے پر دے دیتا۔ کرائے کی رقم بنک کے قرض کی ماہانہ قسط سے دگنا ہوتی جس سے اسے اچھا خاصہ پرافٹ بھی آنا شروع ہوگیا اور فرنچائز کی زمین بھی اس کی ملکیت میں آتی گئی جس سے اس کے پاس مکڈونلڈز کی فرنچائز کا کنٹرول آتا گیا۔
تین سال کے اندر اندر رے مکڈونلڈز نامی بھائیوں کو کک آؤٹ کرچکا تھا اور مکڈونلڈز نامی ایمپائر کا خود مالک بن گیا ۔ یہ سب صرف اس آئیڈیئے کی بدولت ممکن ہوا جو اس کے دماغ میں آیا اور جس کی مدد سے اسے مکڈونلڈز کی فرنچائز کے پیچھے چھپا اصل پوٹینشل نظر آیا۔ اسی ٹاپک پر پچھلے سال ‘ دی فاؤنڈر ‘ نامی ایک شاندار مووی بھی ریلیز ہوئی تھی۔
آپ کوئی بھی کاروبار یا کام کررہے ہوں، جب تک اس کے اصل پوٹینشل کے بارے میں آگاہی نہ حاصل کرلیں، آپ اس سے مکمل طور پر فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ کسی بھی کاروبار میں ترقی کے دو پیمانے ہیں۔ ایک تو یہ کہ اس میں آپ کا پرافٹ کیسے بڑھایا جائے اور دوسرا پیمانہ یہ کہ اس کاروبار کو مزید کیسے پھیلایا جاسکے۔
آپ کو ہر گلی کی نکر پر ٹائروں کو پنکچر لگانے والا نظر آتیا ہے جو بے چارہ لگا بندھا رزق کما رہا ہے۔ سوچیں اگر آپ پنکچر کو ایک دکان کی بجائے ایک سروس کے طور پر دیکھیں تو آپ کے سامنے کئی نئے زاوئے کھل سکتے ہیں۔ سوچیں اگر ایسی سروس موجود ہو کہ آپ اپنے شہر میں کہیں بھی ہوں، اگر آپ کا ٹائر پنکچر ہوگیا اور آپ اس سروس کو کال کریں تو وہ اگلے 15 منٹ کے اندر اندر آپ کی مطلوبہ جگہ پہنچ کر پنکچر لگا دیں اور اس کیلئے 25 فیصد زیادہ چارج بھی کرلیں تو بھی آپ کو محسوس نہیں ہوگا۔
ایسی سروس شروع کرنے کیلئے صرف کوآرڈی نیشن چاہیئے، آپ ہر علاقے کے پنکچر والوں کے ساتھ اپنا نیٹ ورک بنائیں، ان کے ساتھ اچھے ریٹس پر ڈیل کرلیں، یا پھر بیروزگار نوجوان ڈھونڈ کر انہیں پنکچر کی تربیت دیں اور ان کے ساتھ موبائل پر رابطے میں رہیں۔ جسے یہ سروس چاہیئے ہو وہ ویب سائٹ کے زریعے رجسٹر کروائے، پے منٹ کی ادائیگی آن لائن ہو، ہر ہفتے آپ پنکچر لگانے والوں کو ان کی پے منٹ کردیں اور جو سروس اچھی دے، اسے تھوڑا بہت بونس بھی دے دیں۔
مزید پروفیشنل سروس اپنانا چاہیں تو اپنا یونیفارم بنوائیں اور سٹاف کو کہیں کہ وہ اس یونیفارم میں سروس کرنے جائے۔
پاکستان جیسا ملک جہاں سڑکوں کی حالت قابل رحم ہے، صرف لاہور شہر میں ایک دن میں کم از کم 2 لاکھ ٹائر پنکچر ہوتے ہوں گے، اگر آپ کو اس کا 1 فیصد مارکیٹ شئیر بھی مل جائے تو روز 2 ہزار ٹائرز کا بزنس آپ کے پاس۔ اگر آپ کو فی پنکچر 20 روپے بھی ملیں تو ہر روز کی انکم 40 ہزار، جس میں آپ صرف کوآرڈی نیٹ ہی کررہے ہوں گے، اور کچھ نہیں۔
یہ محض ایک مثال ہے، میں جانتا ہوں کہ کہنا بہت آسان اور کرنا بہت مشکل ہوتا ہے، لیکن پھر کامیابی بھی اسے ہی ملتی ہے جو مشکل کام میں ہاتھ ڈالے اور اسے پایہ تکمیل تک پہنچا دے۔
1953 میں مکڈونلڈز نامی بھائیوں نے اپنا اچھوتا کچن پروڈکشن سسٹم ایجاد کرلیا تھا لیکن وہ اس سے آگے نہ بڑھ سکے، انہیں فرنچائز والا کام مشکل لگا، لیکن رے کیلئے وہی اصل پوٹینشل تھا، چنانچہ آج مکڈونلڈز کی 20 بلین ڈالر سے زائد کی پراپرٹی کا مالک وہ ہے، مکڈونلڈز نامی فیملی نہیں!!!